• All minorities in India should unite: Asif

    2New Delhi, 31 August, 2020 – Stating that democracy in India is under threat from the current governments, the All India Minority Front (AIMF) requested to all minorities leaders including Muslims  to unite and chalk out a plan to “save the country”

    Addressing an unification conference in New Delhi, which was presided by Nasir Ahmed Idrish of Yuwa Jankranti Party,  SM Asif said, “Many minority leaders did not support our party and campaign for  others.

    Mr Asif who is also national president of AIMF called for an open discussion to settle the differences.

    2.2“Today all Muslim and minorities movements are different from our movements. If these forces combine, nobody could even think of challenging equality, liberty and fraternity in India,”  said Hazi Abdul Saami  Salmani, national president Indian Backward  Confrence.
    Jishan Hyder Malik, Tahir Hussain and Ikrara Bharti from Muradabad, Nasir Ahmed- Johnpur, Nizammudin from Amroha, Mohy Yakubu Ali from Ballabgarh, Abdulla from Bulandshahr, Mohammad Yusuf Sheikh Sayyed from Delhi, and Nasir Ahmed from Delhi and hundreds others minority leaders have participated in the conference.

  • دہلی میں جمع ہوئے سیکڑوں اقلیتوں کی پارٹیوںکے قومی صدور، تجویز کو کیا منظور

    2 نئی دہلی30اگست 2020۔
    آل انڈیا مائنارٹیزفرنٹ کے ذریعہ آج نئی دہلی میں اتحاد کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت یووا جن کرانتی پارٹی کے قومی صدر ناصر احمد ادریسی نے کی، جبکہ آل انڈیا اقلیتی محاذ کے قومی صدر ایس ایم آصف اس کانفرنس کے کنوینر تھے۔ کانفرنس میں دہلی حج کمیٹی کے سابق چیئرمین اور ہندوستانی پسماندہ کانفرنس کے قومی چیئرمین حاجی عبدالسمیع سلیمانی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اتحاد کریں اور ملک کی سیاست میں اپنی مضبوط موجودگی کا اندراج کریں۔

    جبکہ آل انڈیا مائنارٹیزفرنٹ کے قومی صدر ایس ایم آصف نے کہا کہ اقلیتوں کے ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے موجودہ حکومت ہماری بات نہیں سن رہی ، جب ہم سب ایک ہوجائیں گے ، تب ہم خود ہی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اب ہم سب ایک چھتری کے نیچے آجائیں۔ جبکہ کانفرنس میں قراردادیں منظور کی گئیں کہ ہندوستان کی اقلیتوںکے اہم امور جیسے تعلیم ، سیاسی معاشرتی ریزرویشن وغیرہ پر بحث کی جانی چاہئے۔ اور ہمارے عظیم انسانوں کی تاریخ لوگوں تک پہنچانی چاہئے۔ ساتھ ہی ان کی قربانی کو بھی دھیان میں رکھنا چاہئے ،اور سیاسی مساوات بنائیں۔جو اقلیتی معاشرے کے ساتھ ہورہا ہے اس کو دور کرنے کے لئے ایک بڑے پیمانے پر مہم چلائی جائے ۔

    بیداری لائی جائے اور تمام سیاسی سماجی تنظیموں کو اپنا اتحاد پیش کرنا چاہئے۔ کانفرنس میں یہ منظور کیا گیا کہ ایک میڈیا ہاو ¿س تشکیل دیا جائے جو اقلیتوں کے ساتھ ساتھ ہر سماجی سیاسی تنظیموں کی آواز کو معاشرے کے سامنے مقصد کے ساتھ رکھ سکے۔ اس تجویز میں صحافیوں کے قتل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    2.1کانفرنس میں نمایاں افراد مراد آباد سے تعلق رکھنے والے ذیشان حیدر ملک ، جون پور سے محمد ناصر احمد ،اقراربھارتیہ سے نظام الدین امروہہ ، بلبھ گڑھ سے محمد یعقوب علی ، بلبھ گڑھ سے شمشیر ملک لونی ، بلبھ گڑھ سے سبوا خان عباسی ، مراد آباد سے طاہر حسین، بلند شہر سے عبداللہ ، دہلی سے محمد یوسف شیخ سید قمرالدین، پلول سے بشیر احمدموجود تھے ۔

    جبکہ طاہر بھائی سینئر صحافی حبیب اختر محمد منیر محمد رضوان سنی عقیل خان اور اسلم برنی سمیت سیکڑوں افراد موجود تھے۔ کانفرنس کے اختتام پر آل انڈیا مائنارٹیزفرنٹ کے قومی صدر ایس ایم آصف نے سب کا شکریہ ادا کیا۔

  • दिल्ली में जुटे सैकड़ों अल्पसंख्यकों की पार्टी के राष्ट्रीय अध्यक्ष, किया प्रस्ताव पास

    2नई दिल्ली : आज नई दिल्ली में ऑल इंडिया माइनॉरिटी फ्रंट द्वारा इत्तेहाद कांफ्रेंस आयोजित की गई जिसकी अध्यक्षता युवा जन क्रांति पार्टी के राष्ट्रीय अध्यक्ष नसीर अहमद इदरीसी ने की जबकि ऑल इंडिया माइनॉरिटी फ्रंट के राष्ट्रीय अध्यक्ष एसएम आसिफ इस कॉन्फ्रेंस के संयोजक रहे। कॉन्फ्रेंस में दिल्ली हज कमेटी के पूर्व चेयरमैन और इंडियन बैकवर्ड कॉन्फ्रेंस के राष्ट्रीय अध्यक्ष हाजी अब्दुल समी सलमानी ने कहा कि। अब वक्त  चुका है कि हम अब इत्तेहाद करे और देश में कि राजनीति में अपनी मजबूत उपस्थिति दर्ज कराए।

    जबकि ऑल इंडिया माइनॉरिटी फ्रंट के राष्ट्रीय अध्यक्ष एस एम आसिफ ने कहा कि अल्पसंख्यकों के बिखराव के कारण ही अाज सरकार हमारी नहीं सुन रही जब हम सब एक हो जायेगे तो हम खुद ही सरकार बनाने की स्थिति में आ जायेगे इसके लिए जरूरी है।की हम अब सभी एक छतरी के नीचे आ जाए। जबकि कॉन्फ्रेंस में प्रस्ताव पारित किए गए कि भारत के अल्पसंख्यकों के मुख्य मुद्दों जैसे शिक्षा राजनैतिक सामाजिक आरक्षण आदि मुद्दों पर बहस होनी चाहिए। और अपने महापुरुषों के इतिहास को जन-जन तक पहुंचाना चाहिए। साथ ही उनके बलिदान को ध्यान में रखना चाहिए राजनीतिक समीकरण बनाने चाहिए। और जो अल्पसंख्यक समाज की उपेक्षा हो रही है इसको दूर करने के लिए जन अभियान चलाना चाहिए। जागरूकता लानी चाहिए और सभी राजनैतिक सामाजिक संगठनों को अपनी एकता का परिचय कराना चाहिए।

    कांफ्रेंस में यह प्रस्ताव पास हुआ कि एक मीडिया हाउस का गठन होना चाहिए जो अल्पसंख्यकों के साथ प्रत्येक सामाजिक राजनैतिक संगठनों की आवाज निष्पक्ष रुप से समाज के सामने रख सके।

    2.1प्रस्ताव में पत्रकारों की हो रही हत्या पर भी चिंता व्यक्त की गई। कॉन्फ्रेंस में प्रमुख रूप से जीशान हैदर मलिक मुरादाबाद से मोहम्मद नसीर अहमद जौनपुर से निजामुद्दीन अमरोहा से इकरार भारतीय मुरादाबाद से मोहम्मद याकूब अली बल्लभगढ़ से मोहम्मद याकूब अली बल्लभगढ़ से शमशेर मलिक लोनी से सबुआ खा अब्बासी बल्लभगढ़ से ताहिर हुसैन मुरादाबाद से अब्दुल्ला बुलंदशहर से मोहम्मद युसूफ शेख सैयद कमरुद्दीन दिल्ली से बशीर अहमद पलवल से मौजूद थे जबकि ताहिर भाई वरिष्ठ पत्रकार हबीब अख्तर मोहम्मद मुनीर मोहम्मद रिजवान सनी अकील खान और असलम बर्नी सहित सैकड़ों लोग इस दौरान मौजूद रहे।

    जबकि कांफ्रेंस के अंत में ऑल इंडिया माइनॉरिटी फ्रंट के राष्ट्रीय अध्यक्ष एस एम आसिफ ने  सभी का धन्यवाद व्यक्त किया

  • ملک کی سیاست میں نئی شروعات کل ،دہلی میں جمع ہوںگے ملک بھر سے مسلم ، ہندوپارٹی کے قومی صدور اور دانشوران

    نئی دہلی29اکست sm-asif-pic12020
    آل انڈیامائنارٹیزفرنٹ دہلی میں ملک بھر کی مسلم پارٹیوں کے قومی صدر کے ساتھ متعدد صوبائی پارٹیوں کے رہنماو ¿ں کے ساتھ پریس بات چیت کرنے جارہی ہے۔ جس میں ہندو،مسلم ، سکھ اور عیسائی کے بھائی چاے کے ساتھ متعدد اہم اعلان کئے جائیں گے ۔ نیز بہار ،ایم پی اور دہلی انتخابات کے لئے بھی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔

    آل انڈیا مائنارٹیزفرنٹ کے قومی صدر ایس ایم آصف نے کہا ہے کہ کل دہلی میںملک بھر کی متعدد اہم پارٹیوں کے قومی صدور ، متعددصوبائی پارٹیوں کے لیڈران کے ساتھ متعدد دانشوران ا س پریس کانفرنس میں شرکت کریںگے اور بہت سے اہم اعلانات کئے جائیں گے۔

  • देश की राजनीति में नया आगाज कल दिल्ली में जुटेंगे देश भर की मुस्लिम, हिन्दू पार्टी के राष्ट्रीय अध्यक्ष और बुद्धिजीवी

    IMG_4432नई दिल्ली : देश की राजनीति में नया परिवर्तन लाने के लिए कल देश की राजधानी दिल्ली में देश भर कि मुस्लिम पार्टियों के राष्ट्रीय अध्यक्ष के साथ कई प्रांतीय दलों के नेताओं के साथ ऑल इंडिया माइनॉरिटी फ्रंट एक प्रेस वार्ता करने जा रही है। जिसमे हिन्दू मुस्लिम सिख ईसाई के भाईचारे के साथ कई महत्वपूर्ण ऐलान किए जाएंगे। साथ ही बिहार,एमपी और दिल्ली के चुनावों को लेकर भी रणनीति बनाने की घोषणा भी होगी।

    ऑल इंडिया माइनॉरिटी फ्रंट के राष्ट्रीय अध्यक्ष एस एम आसिफ ने कहा है।  कल दिल्ली में देश भर की कई महत्वपूर्ण पार्टियों के राष्ट्रीय अध्यक्ष,कई प्रांतीय दलों के नेताओ के साथ कई बुद्धिजीवी इस प्रेस वार्ता में जुटेंगे और कई महत्वपूर्ण घोषणा की जाएगी।

  • Yogi is anti-minority…and now anti-Brahmin: Asif

    sm-asif-picNEW DELHI, 28 August, 2020 - The All India Minority Front (AIMF) alleged that apart from minorities, Brahmins are also becoming victims of “casteist discrimination, political malice and atrocities” in Uttar Pradesh.
    In a statement party president SM Asif alleged that leaders belonging to his party complained about Brahmins being targeted and are facing discrimination in the BJP led Yogi Adityanath government in Uttar Pradesh.

    Justifying his allegation, Asif said that about 124 criminals have been eliminated in various police encounters across the state from March 13, 2017 to August 9, 2020. Out of them, 45 belonged to the minority communities, while 11 were Brahmins and eight Yadavs.

    “Murder, violence and playing with law and order has become a common sight in the name of saffron appeasement of the BJP government which has also caused fear and terror among the people,” he said.

    Mr Asif added, “The government should not do anything that will make the ‘Brahmin Samaj’ feel scared, terrorised and insecure.”

    Urging the Brahmins to join AIMF, Mr Asif said, “If we can take care of minorities, we will also take care of our Brahmin brothers and sisters. They don’t have to bow down before the UP Government.”

  • یوپی کی یوگی حکومت برہمن اور اقلیت مخالف : آصف

    نئی دہلی28اگست sm-asif-pic12020
    آل انڈیا مائنارٹیزفرنٹ کے قومی صدر ایس ایم آصف نے کہا کہ یوپی میں جس طرح سے برہمنوں اور اقلیتوں پر ظلم ہورہا ہے اس سے اب یہ صاف ہویا گیا ہے کہ یوپی کی یوگی حکومت ایک برہمن اور اقلیت مخالف حکومت ہے۔

    آصف نے کہا ہے کہ یوپی کی سیاست میں ہمیشہ برہمنوں کی بالادستی برقرار رہی ہے۔ آبادی کا تقریبا 12فیصد برہمن ہیں۔ 2017 میں بی جے پی کو برہمنوں کی مکمل حمایت حاصل تھی لیکن حکومت کو اتنا کچھ نظر نہیں آیا۔ جون، جولائی کے آخری 11 دنوں میں ، 23 برہمنوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ جون 2017 میں یوگی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی اونچاہار میں 5 برہمنوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔اس کے بعد برہمنوں کے قتل کے اکثر واقعات سامنے آتے رہے ہیں ، چاہے وہ کملیش تیواری قتل عام تھا یا مین پوری میں نوودیا اسکول کی طالب علم کا مشتبہ خود کشی کا معاملہ رہا ہو، زیادہ مشہور قتل یا خودکشیوں کا تعلق ایک ہی ذات سے ہے۔

    اس حکومت میں پچھلے دو سالوں میں 500 سے زیادہ برہمنوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ آصف نے کہا کہ جہاں ایک ہی وقت میں یوپی میں اقلیتوں پر بھی ظلم کیا گیا ہے۔ یوگی کی پولیس نے بہت سے جھوٹے مقدمات میں اقلیتوں کو ملوث کیا ہے، تو مذہبی بنیادوں پر ان کا استحصال کیا گیا ہے۔ آصف نے کہا کہ یوگی حکومت یہیں نہیں رکی۔ حکومت نے بہت سے برہمن خاندانوں کو بھی ہراساں کیا ہے۔ جبکہ 9 برہمنوں کو یوپی کے 56 وزراءکی کابینہ میں شامل کیا گیا تھا ، لیکن دنیش شرما اور شریکانت شرما کے علاوہ کسی کو بھی اہم محکمہ نہیں دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سریکانت شرما کو اعلی قیادت کی جانب سے دہلی سے یوپی بھیجا گیا تھا۔ جب کہ 8 شتریوں کو وزیر بنایا گیا ہے اور سبھی کو برہمنوں سے بہتر محکمہ دیا گیا ۔

    یوگی کو قریب سے جاننے والے ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ شتریوں میں مہندر سنگھ ، سواتی سنگھ اور چیتن چوہان یوگی کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ آڈیو واقعہ کے بعد بھی سواتی سنگھ کا محکمہ تبدیل نہیں کیا گیا ہے جبکہ برہمنوں میں ان کا کوئی قریبی نہیں ہے۔

    ممبران پارلیمنٹ کی بات کرتے ہوئے بی جے پی نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں یوپی میں 15 برہمنوں کو ٹکٹ دیا ، جس میں 13 ممبران پارلیمنٹ تشکیل دی گئیں۔ آصف نے کہا کہ اقلیتوں کی حالت بھی ایسی ہی رہی ہے ، ان کی صورتحال برہمنوں سے بھی بدتر ہے۔ آصف نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ یوپی کے برہمن اور مسلمان ، آل انڈیا آل انڈیا مائنارٹیزفرنٹ کے ساتھ مل کر ، آواز اٹھائیں اور یوگی حکومت کو بتائیں کہ ان کی رضامندی کے بغیر یوپی میں حکومت نہیں ہوسکتی۔

  • यूपी की योगी सरकार ब्राह्मण और अल्पसंख्यक विरोधी : आसिफ

    IMG_4432नई दिल्ली : ऑल इंडिया माइनॉरिटी फ्रंट के राष्ट्रीय अध्यक्ष एस एम आसिफ ने कहा है। कि जिस तरह से यूपी में ब्राह्मण और अल्पसंख्यक पर अत्याचार हो रहे है। उससे तो। अब यह साफ हो गया है। कि यूपी की योगी सरकार ब्राह्मण और अल्पसंख्यक विरोधी सरकार हे।

    आसिफ ने कहा है कि यूपी की राजनीति में ब्राह्मणों का वर्चस्व हमेशा से कायम माना जाता रह है। आबादी के लिहाज से लगभग 12% ब्राह्मण हैं। 2017 में बीजेपी को ब्राह्मणों का पूरा सपोर्ट मिला लेकिन सरकार में उतनी हनक नहीं दिखी। जून-जुलाई के पिछले 11 दिन में 23 ब्राह्मणों की हत्या हुई हैं। योगी सरकार बनते ही जून 2017 में ऊंचाहार में 5 ब्राह्मण जिंदा जलाए गए।’ इसके बाद लगातार ब्राह्मणों की हत्याओं के मामले सामने आए चाहे वह कमलेश तिवारी हत्याकांड रहा या मैनपुरी के नवोदय स्कूल की छात्रा की संदिग्ध आत्महत्या का मामला रहा हो अधिक चर्चित हत्याकांड या सुसाइड एक ही जाति के लोगों के हैं.’ इस सरकार में बीते दो साल में 500 से अधिक ब्राह्मणों की हत्याएं हुई हैं।

    आसिफ ने कहां की इसके साथ ही यूपी में अल्पसंख्यकों के साथ भी अत्याचार होते रहे है। अल्पसंख्यकों को बिन बजह ही योगी की पुलिस ने कई झूठे केस में फंसाया हे। तो वहीं धार्मिक आधार पर उनका सोषण होता रहा है। आसिफ ने कहा कि योगी सरकार यही नहीं रुकी है। सरकार ने कई ब्राह्मण परिवारों को भी परेशान किया है। जबकि यूपी के 56 मंत्रियों के मंत्रिमंडल में 9 ब्राह्मणों को जगह दी गई लेकिन दिनेश शर्मा व श्रीकांत शर्मा को छोड़ किसी को अहम विभाग नहीं दिए गए। श्रीकांत शर्मा के बारे में कहा जाता है कि उन्हें शीर्ष नेतृत्व की ओर से दिल्ली से यूपी भेजा गया है। जबकि 8 क्षत्रियों को मंत्री बनाया गया है और सभी को ब्राह्मणों से बेहतर विभाग दिए गए।

    योगी को करीब से जानने वाले सूत्र बताते हैं कि क्षत्रियों में महेंद्र सिंह, स्वाती सिंह और चेतन चौहान को योगी का करीबी माना जाता है. ऑडियो प्रकरण के बाद भी स्वाती सिंह का विभाग नहीं बदला गया है जबकि ब्राहम्णों में कोई उनका करीबी नहीं है।

    अगर सांसदों की बात करें तो बीजेपी ने 2019 लोकसभा चुनाव में यूपी में 15 ब्राह्मणों को टिकट दिया जिसमें 13 सांसद बने। आसिफ ने कहां की यही हाल अल्पसंख्यकों का भी रहा है उनकी हालात तो ब्राह्मणों से भी ज्यादा बुरी रही है।

    आसिफ ने कहा कि। अब वक्त आ गया है कि यूपी के ब्राह्मण और मुस्लिम एक होकर ऑल इंडिया माइनॉरिटी फ्रंट के के साथ मिलकर अपनी आवाज बुलंद करके योगी सरकार को बता दे की उनकी बिना मर्ज़ी के यूपी में राज नहीं हो सकता।

  • AIMF demands Chavhanke’s arrest for targeting Muslims in UPSC

    IMG_4432NEW DELHI, 27 August, 2020 - Taking a strong exception to the alleged hate speech targeting Muslims in the civil services made by Sudarshan News Editor-in-Chief Suresh Chavhanke, the All India Minority Front (AIMF) has demanded his immediate arrest.

    In a press statement, the party leader SM Asif demanded action against Chavhanke for the teaser of the report, which is scheduled to be aired Friday.

    The AIMF chief said it amounts to “hate speech” and questioning a constitutional body like the Union Public Service Commission (UPSC), which selects the civil servants.

    He said, “This is horrid communal attack directed at Muslims and specifically towards Muslim candidates appearing for the UPSC exams, clearing them, and joining the All India Services.”

    “Attack like these not only create an atmosphere of fear and bothering among young Muslim youth but also deter them from appearing for the country’s top examinations and making a career out of serving India and its people,” he claimed.

  • مسلم آئی اے ایس ،آئی پی ایس کو دہشت گرد اور جہادی کہنے والے دوردرشن نیوز کے مالک کو کیا جائے گرفتار : آصف

    نئی دہلی27اگست sm-asif-pic12020
    آل انڈیا مائنارٹیزفرنٹ کے قومی صدر ایس ایم آصف نے کہا کہ جامعہ اور دیگر ذرائع سے منتخب کردہ مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس کو منسوخ شدہ ذہنیت کا شخص یہ کہے کہ لوگ جب خدمت میں آئیں گے تو جہادی اور دہشت گرد بن جائیں گے بہت ہی شرمنا ک ،دیش دروہی بیان ہے ۔ ایسے موقع پرست لوگ ہی ملک کے بھائی چارے کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو فوری گرفتار کرکے جیل بھیجنا چاہئے۔

    آصف نے بتایا کہ دوردرشن نیوز چینل کے مالک سریش چوہان نے ایک ٹویٹ کیا ہے۔ جس میں انہوں نے مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس جو اس بار یو پی ایس سی سے منتخب ہو آئے ہیں انہیں جہادی اور دہشت گرد کہا گیا ہے۔ جبکہ 14 فیصد مسلم امیدواروں میں سے صرف 4 فیصد منتخب ہوئے ہیں اور وہ خود اپنی قابلیت پر ہی آئے ہیں۔ جبکہ پچھلی بار یہ تعداد 3.7 کے آس پاس تھی۔ لہذا اس معاملے میں ، ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے ، کچھ لوگ ان پر اس طرح کے ناقص الزامات لگاتے ہیں ،تو ایسے لوگوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جانا چا ہئے ۔ تاکہ ہمارے ملک کا ادارہ یوپی ایس سی اور آئی پی ایس ، آئی اے ایس کی توہین نہ ہو ، انہیں لوگوں کی وجہ سے ہی ملک کا بھائی چارہ خطرے میں پڑجاتا ہے ۔ در حقیقت یہ سریش چوہان جیسے لوگ ہیںجو ملک میں نفرت کے بیج بوتے ہیں۔