کیا نالندا اوپن یونیورسٹی کی منظوری خطرے میں ڈالنے سے بہار تعلیم یافتہ ہوجائے گا: آصف

نتیش بتائیں کہ غیر ذمہ دار افسران کو سزا کے بدلے آٹھ یونیورسٹیوں کی تنخواہوں روکی؟:آصف

sm-asif-pic1نئی دہلی14ستمبر 2020۔
بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار پر راتیہ کے نظام تعلیم کو تباہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آل انڈیا مائنارٹیزفرنٹ کے صدر ایس ایم آصف نے کہا ہے کہ نتیش کمار نہیں چاہتے کہ ریاست کے نوجوان اعلی تعلیم کے میدان میں ترقی کریں۔ انہوں نے کہا کہ پٹنہ کی اوپن نالندا یونیورسٹی کو صرف دس اراضی دے کر حکومت نے اس یونیورسٹی کو تسلیم کرنے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ جبکہ کسی بھی فاصلاتی تعلیمی ادارے کے لئے 40 ایکڑ میں تعمیر کرنا ضروری ہے۔
جناب ایس ایم آصف کی طرف سے یہاں جاری ایک بیان میں بہار کی خودمختار حکومت نے آٹھ یونیورسٹیوں کے رجسٹراروں ، فنانس آفیسرز (ایف اے) کی تنخواہوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ، فنانس آفیسر اور بجٹ برانچ کے تمام ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی بھی اس حکم کی تعمیل تک بند رہے گی۔ ان میں وی کے وی ایس آرہ ، جے پی یونیورسٹی چھپڑا ، ایل ایم این یو دربھنگہ ، منگیر یونیورسٹی ، پورنیا یونیورسٹی ، بی آر اے بہار یونیورسٹی مظفر پور ، مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا اور مولانا مظہرالحق عربی۔فارسی یونیورسٹی پٹنہ شامل ہیں۔ ان آٹھ میں سے پانچ یونیورسٹیوں ، جن میں وی کے وی ایس آرہ ، جے پی یونیورسٹی چھپڑا ، ایل ایم این یو دربھنگہ ، منگیر یونیورسٹی ، پورنیا یونیورسٹی کے رجسٹرار اور ایف اے شامل ہیں ، کو اپنی تنخواہیں بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فرنٹ کے چیئرمین نے کہا ہے کہ اگر ان یونیورسٹیوں میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو متعلقہ ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف معطلی کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا جاسکتا تھا ۔ان کی غلطیوں کی سزا دوسرے افسران اور ملازمین کی تنخواہوں کو روک کر کیوں دی جارہی ہے ۔ آصف نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ کرونا دور میں حکومت عام ملازمین اور بے گناہ افراد کے لواحقین کو تنخواہ بند کرکے سزا کیوں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنا آمرانہ حکم واپس لے اور بے گناہوں کو راحت دے۔
جناب آصف نے کہا کہ ریاست کی نالندا اوپن یونیورسٹی واحد یونیورسٹی ہے جس میں فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ 1.25 لاکھ سے زیادہ طلباءہیں۔ قواعد کے مطابق انہیں اراضی مختص نہ کرنا نتیش حکومت کی تعلیم کے بارے میں سخت رویہ کی نشاندہی کررہا ہے۔

Comment is closed.