جموں و کشمیر کو دیا گیا پیکیج ناکافی ، حکومت کو بڑا پیکیج دینا چاہئے: آصف

حکومت ڈل جھیل کو ترقی دے اور روزگار مہیا کرے: آصف
حکومت نوجوانوں کو نوکری دے اوربجلی کے بل معاف کرے: آصف

نئی دہلی20ستمبرsm-asif-pic12020
حکومت نے جموں و کشمیر کے لئے ایک ہزار 350 کروڑ روپے کے معاشی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ جسے آل انڈیا مائنارٹیزفرنٹ کے قومی صدر ایس ایم آصف نے ناکافی قرار دیا ہے۔ آصف نے کہا ہے کہ حکومت نے جموں و کشمیر کے لئے ایک ہزار 350 کروڑ روپے کے معاشی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ جس میں حکومت کا دعوی ہے کہ اس سے نہ صرف معاشی پریشانیوں کا سامنا کرنے والی کاروباری برادری کو راحت ملے گی بلکہ ریاست میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ حکومت تاجروں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی ریلیف دے رہی تھی۔ ایک سال کے لئے بجلی اور پانی کے بلوں میں 50 فیصد چھوٹ دینے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی 31 مارچ 2021 تک اسٹامپ ڈیوٹی پر بھی چھوٹ دی گئی ہے۔ لیکن اس پیکیج کے ساتھ ریاست کے ساتھ کچھ خاص نہیں ہوگا۔ آصف نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری ہے۔ مایوس نوجوان ، سیاحت کی صنعت پوری طرح برباد ہوگئی تھی ، جو یہاں کے لوگوں کی روزی روٹی سے منسلک ہے۔ حکومت نے اس طرف زیادہ توجہ نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل ضرورت دہشت گردی اور کورونا کے بعد برباد ہونے والی ڈل جھیل کو دوبارہ ترقی دے کر شکارا چلانے والوں کو روزگار فراہم کرنا اور مایوس اور اصل راہ سے بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ہے۔ تاکہ وہ لوگ صحیح راہ پر واپس آسکیں۔
آصف نے بتایا کہ یہ پیکج دراصل اونٹ کے منہ میں زیرہ کی طرح ہے۔ اس پیکیج سے ریاست کا کچھ اچھا نہیں ہونے والا ہے۔ اس کے لئے حکومت کو جموں و کشمیر کے لئے ایک بڑے معاشی پیکیج کا اعلان کرنا چاہئے۔ جس میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی سیاحت اور روزگار کے بارے میں زیادہ باتیں ہو ں۔

Comment is closed.