مودی جی پراکرم دیوس پر سبھاش بوس کی موت کا راز انکشاف کریں گے: ڈاکٹرایس ایم آصف

sm-asif-pic1نئی دہلی22 جنوری
وزیر اعظم نریندر مودی 23 جنوری کو بنگال میں نیتا جی سبھاش چندر بوس کی موت کے پیچھے اسرار کو پردہ کریں گے۔ پراکرم دیوس کے موقع پر ملک اور خاص طور پر بنگال کے عوام اس خفیہ افتتاح کے منتظر ہیں۔

یہاں آل انڈیا مائنارٹیزفرنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر سید محمد آصف کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آزاد ہند فوج کے ہیرو اور ناقابل ہمت کی علامت سبھاش چندر بوس کی موت کے 75 سال بعد بھی انکشاف نہیں ہوا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ وہ اسرار سے پردہ اٹھائیں گے کہ سبھاش بابو کی موت سے متعلق تمام دستاویزات عام کریںگے کہ ان کی موت کہاں ، کیسے اور کب ہوئی۔ مودی نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ اقتدار میں رہنے والے لوگوں نے سبھاش بابو کی ہلاکت کے پیچھے جان بوجھ کر راز رکھے تھے۔

ڈاکٹر آصف نے کہا کہ وعدہ پورا کرنے والے وزیر اعظم اپنا وعدہ پورا کریں گے۔ ان کے ذریعہ راز افشا کرنے سے بنگال سمیت پورے ملک کو اطمینان ملے گا اور پتہ چل جائے گا کہ دشمن ملک کون ہے جس نے ہماری آزادی کے ہیرو کے خلاف موت کی سازش کی۔

ڈاکٹر آصف نے بتایا کہ 18 اگست 1945 کو نیتا جی ہوائی جہاز کے ذریعے منچوریا جارہے تھے اور اس سفر کے بعد وہ غائب ہوگئے۔ 23 اگست کو ایک جاپانی تنظیم نے یہ خبر جاری کی کہ نیتا جی کا طیارہ تائیوان میں گر کر تباہ ہوا ہے ، جس کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی ہے۔ جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔

نیتا جی کی پراسرار موت کے ساتھ ساتھ ہوائی جہاز کے حادثے کا شبہ ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ اگر جاپان میں رکھی ہوئی ہڈیاں واقعتا نیتا جی کی ہیں تو پھر اسے اب تک ہندوستان کیوں نہیں لایا گیا؟ اس راز سے بھی پردہ اٹھانا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حقائق کے مطابق 18 اگست 1945 کو نیتا جی ہوائی جہاز کے ذریعے منچوریہ جارہے تھے اور اس سفر کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے۔ تاہم ایک جاپانی ادارے نے اسی سال 23 اگست کو یہ خبر جاری کی تھی کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کا طیارہ تائیوان میں گر کر تباہ ہوگیا تھا ، جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی تھی۔ لیکن کچھ ہی دن بعد خود جاپانی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی کہ 18 اگست 1945 کو تائیوان میں جہاز کا کوئی حادثہ نہیں تھا۔ لہذا آج بھی نیتا جی کی موت کا معمہ سامنے نہیں آ سکا۔

اس کی باقیات کو ٹوکیو پہنچایا گیا تھا جہاں ستمبر 1945 سے اس کی باقیات رینکوجی مندر میں رکھی گئی ہیں۔ اب تک جاپان سے نیتا جی سبھاش چندر بوس کی راکھ کو ہندوستان کیوں نہیں لایا گیا اس کی بابت مختلف حکومتیں مختلف وجوہات بتاتی رہی ہیں۔

Comment is closed.