مودی اور شاہ کو دارالحکومت کو لوٹ مار کا شہر نہیں بننے دینا چاہئے: اے آئی ایم ایف

دہلی میں قاتلانہ حملوں ، لوٹ مار اور جرائم کو روکنے کے لئے دہلی حکومت کیوں ناکام ہے: ڈاکٹر آصف

sm-asif-picنئی دہلی09جولائی
کرونا کی وبا کے دوران ملک کا دارالحکومت دہلی قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا دارالحکومت بن گیا ہے۔ دہلی حکومت ریاست میں انارکی کی صورتحال کے لئے ایک مکمل ناکامی ثابت ہوئی ہے۔ دہلی کو ایک روایتی شہر بنانے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو فوری مداخلت کرنی چاہئے۔

آل انڈیا مائنارٹیزفرنٹ کے صدر ڈاکٹر سید محمد آصف نے مذکورہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دہلی کی اس ہولناک صورتحال کو سنبھالا نہیں گیا تو یہاں انتشار پھیل جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلی اروند کیجریوال اور دہلی کے

لیفٹیننٹ گورنر دارالحکومت کے عوام کے عوامی سامان کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ اسے شہریوں کو خوف سے پاک بنانا تھا ، لیکن دہلی میں جرائم پیشہ افراد خوف سے پاک ہوگئے ہیں۔ دہلی پولیس عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کے باڑا ہندو راو ¿ علاقے میں شرپسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے دو راہگیروں کو ہلاک کردیا۔ اسی طرح دواریکا میں دن دہاڑے کنبہ کو یرغمال بنا کر شرپسندوں نے لاکھوں نقد مالیت کے گھر کے زیورات لوٹ لئے۔ پولیس ان کو پکڑنے کے لئے ابھی ناکام ہے۔

اے آئی ایم ایف صدر ڈاکٹر آصف نے کہا کہ گھناو ¿نے جرائم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ملک کے دارالحکومت میں ہر گھنٹے جرائم میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ، خود پولیس کے اعداد و شمار گواہی دے رہے ہیں۔

لاک ڈاو ¿ن کی سختی سے پیروی کرنے کے لئے امن و امان کو برقرار رکھنے کی بھی کوششیں کی گئیں لیکن اس عرصے کے دوران دہلی میں عصمت دری ، ڈکیتی ، چھیننے اور گاڑی چوری کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اوسطا ہر روز 811 یعنی ہر گھنٹے میں 34 ایف آئی آر درج کی جارہی ہیں۔
صرف یہی نہیں اس سال یکم جنوری سے 15 جون تک مجموعی طور پر 833 عصمت دری کے واقعات درج ہوئے ہیں۔ جبکہ 2020 میں اسی عرصے کے دوران اس طرح کے معاملات کم تھے۔ اس سال کورونا لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے عوامی مقامات ، اسکولوں اور دفاتر کی بندش کے باوجود دارالحکومت میں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ دہلی میں 15 جون ، 2020 تک شوہر اور سسرالیوں کی طرف سے ظلم کے 824 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ اس سال 15 جون تک ان معاملات کی تعداد 1712 ہے۔
دہلی میں خواتین کے ساتھ عصمت دری کی نیت سے حملہ کرنے کے واقعات میں 39 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ پولیس نے پچھلے سال یعنی 2020 میں 15 جون تک ایسے 735 مقدمات درج کیے تھے۔ جبکہ اس سال یہ بڑھ کر 1022 ہوگئی ہے۔

صرف یہی نہیں دہلی میں خواتین کے اغوا کے واقعات میں بھی تقریبا 55 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 2020 میں شہر میں اغوا کے 1026 واقعات درج ہوئے جبکہ 2021 میں یہ تعداد بڑھ کر 1580 ہوگئی۔ اس کے علاوہ خواتین کے اغوا کے واقعات میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ تعداد 2020 میں 46 تھی اور 2021 میں یہ 159 ہوگئی ہے۔ اگرچہ 2020 میں خواتین کے قتل کے 226 مقدمات درج ہوئے تھے ، لیکن اس سال 15 جون تک 196 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
دہلی پولیس خود اعتراف کرتی ہے کہ یکم جنوری 2021 سے 15 جون 2021 کے درمیان 123295 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ جبکہ گذشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ تعداد صرف 113855 تھی۔

دہلی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال یکم جنوری سے 15 جون کے درمیان ڈکیتی کے تقریبا 701 واقعات درج کیے گئے تھے۔ جبکہ رواں سال 15 جون تک یہ تعداد 942 سے زیادہ ہے۔ اسی وقت دہلی میں چھیننے والے کیسوں میں 46 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سال چھیننے کے 3800 سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ جبکہ گذشتہ سال یہ تعداد 2600 تھی۔

صرف یہی نہیں رواں سال 15 جون تک دہلی میں چوری کے 63 ہزار سے زیادہ واقعات درج ہوچکے ہیں جو گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریبا 7 ہزار زیادہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی موٹر گاڑی چوری اور گھر چوری کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فسادات کے معاملات 2020 میں 681 سے کم ہوکر رواں سال 35 ہوچکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں دہلی کو سنبھالنا بہت ضروری ہے۔ وزیر اعلی کیجریوال اپنی سماجی سیاسی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر دہلی پولیس کا سروسروا ہے۔ اس صورتحال میں وہ اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔ وزیر اعظم کو براہ راست پہل کرنی چاہئے اور دہلی کو سنبھالنے کی ذمہ داری اٹھانی چاہئے کیونکہ دہلی کو صرف کیجریوال اور انیل بیجل کے بھروسے نہیں چھوڑا جاسکتا۔

Comment is closed.